یہ 11 دسمبر کی رات لگ بھگ ایک بجے کا واقعہ ہے جب درجن بھر افراد زبردستی ششیکلا (فرضی نام) کے گھر میں گھس آئے۔
42 سالہ ششیکلا کو گھسیٹ کر گھر سے باہر نکالا گیا، برہنہ کیا گیا اور برہنہ حالت میں گاؤں میں گھمایا گیا اور بعد ازاں انھیں گاؤں کے بیچوں بیچ لگے ایک بجلی کے کھمبے سے باندھ دیا گیا۔ باندھنے کے بعد انھیں کئی گھنٹوں تک مارا پیٹا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کو یہ سزا اس لیے دی جا رہی تھی کیونکہ ان کا 24 سالہ بیٹا اپنی 18 سالہ گرل فرینڈ کے ساتھ فرار ہو گیا تھا۔
18 سالہ نوجوان لڑکی کی شادی اُس کے گھر والوں نے کہیں اور طے کر رکھی تھی اور چند ہی دنوں میں اُس کی رخصتی ہونا تھی، مگر اس سے پہلے ہی وہ اپنے بوائے فرینڈ (متاثرہ خاتون کے بیٹے) کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔ اور اب غصے سے بھرے لڑکی کے خاندان والے لڑکے کی ماں سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ اب وہ دونوں کہاں ہیں۔
اس افسوسناک واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس صبح 4 بجے کے قریب گاؤں پہنچی اور ششیکلا کو ریسکیو کر کے ہسپتال پہنچایا۔ اس تشدد کے بعد ششیکلا شدید صدمے میں مبتلا تھیں۔ ان کے شوہر نے بعد میں اپنے گھر تعزیت کے لیے آنے والے ایک حکومتی وزیر کو بتایا کہ ’مجھے اور میری بیوی کو اس رشتے (اپنے بیٹے اور اُن کی گرل فرینڈ) کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔‘
اس واقعے کے بعد ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ایک مقامی پولیس افسر کو ’فرائض میں کوتاہی‘ برتنے کے الزام میں معطل بھی کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ قومی سطح پر شہ سرخیوں میں آیا اور حکام نے اس کا نوٹس لیا۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اسے ’غیر انسانی فعل‘ قرار دیا اور متاثرین سے انصاف کا وعدہ کیا۔
حکومت نے متاثرہ خاندان کو کچھ زرعی زمین اور مالی امداد دینے کا اعلان بھی کیا تاہم ساتھ ساتھ حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ متاثرہ خاتون نے جو ذلّت اور تشدد برداشت کیا کوئی معاوضہ اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پرسنا ورلے نے پولیس کو عدالت میں طلب کیا اور خود ہی اس کیس کی سماعت شروع کی۔ دوران سماعت جج نے ریمارکس دیے کہ وہ حیران ہیں کہ آج کے جدید دور کے انڈیا میں اس طرح کا واقعہ بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ واقعہ نہ تو اپنی نوعیت کا کوئی انوکھا واقعہ ہے اور نہ ہی انڈیا میں پیش آنے والا کوئی پہلا واقعہ، بلکہ حالیہ برسوں میں اسی طرح کے کئی واقعات انڈیا میں اخباروں کی شہ سُرخیوں میں آئے روز سامنے آتے رہتے رہے ہیں۔
ایسی ہی ایک خبر نے رواں برس جولائی میں شمال مشرقی ریاست منی پور سے عالمی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا تھا۔ ایک وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا کہ دو خواتین کو مردوں کے ہجوم نے گھسیٹا اور ان میں سے ایک کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی ریپ کیا۔
اس ہولناک حملے کا ایک سیاسی زاویہ تھا اور وہ یہ کہ منی پور کوکی اور میتی برادریوں کے ساتھ پرتشدد نسلی جھڑپوں کی لپیٹ میں تھا۔
لیکن دوسری ریاستوں سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی جڑیں اکثر ذات پات یا خاندانی تنازعات سے جڑی ہوتی ہیں، جن کی قیمت اکثر خواتین کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے یا تو اپنے قتل کی صورت میں یا ریپ جیسے گھناؤنے واقعات کی صورت میں۔
رواں برس اگست میں راجستھان میں ایک 20 سالہ حاملہ خاتون کو اس کے شوہر اور سسرال والوں نے برہنہ کر دیا تھا کیونکہ انھوں نے کسی اور شخص کی وجہ سے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا تھا۔ گجرات میں ایک 23 سالہ قبائلی خاتون کو جولائی 2021 میں ایک مرد کے ساتھ بھاگ جانے کی پاداش میں اسی طرح کی سزا دی گئی تھی۔
پھر مئی 2015 میں اتر پردیش میں پانچ دلت خواتین کو اونچی ذات کے لوگوں نے برہنہ کیا تھا اور الزام یہ تھا کہ اُونچی ذات کے ان لوگوں کی لڑکی ایک دلت لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی۔ سال 2014 میں راجستھان کا نام ایک مرتبہ پھر خبروں میں تب آیا کہ جب ایک 45 سالہ خاتون کو اپنے بھتیجے کے قتل کے الزام میں برہنہ کر کے اور گدھے پر بٹھا کر پورے گاؤں میں گھمایا گیا۔
یہ وہ چند واقعات ہیں کہ جو سرخیوں میں آئے ہیں، لیکن اس طرح کے کئی ایسے واقعات بھی ہیں کہ جن کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چلتا اور مقامی سطح پر ہی خاموشی اختیار کی لی جاتی ہے اور اُن کے بارے میں اعداد و شمار کا بھی فقدان ہے۔
کچھ معاملات کو سیاسی رنگ دے دیا جاتا ہے اور اپوزیشن پارٹیاں ریاستی حکومت کو شرمندہ کرنے کے لیے ان معاملات کو اٹھاتی ہیں۔ لیکن سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور عدالتوں کی جانب سے بے حسی کا یہ عالم ہے کہ پوچھ گچھ کے خوف سے خواتین اکثر ان جرائم کی اطلاع نہیں دیتی اور خاموشی سے یہ مظالم برداشت کیے جا رہی ہیں۔
وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن سکریتی چوہان کہتی ہیں کہ ’خواتین پر حملے کے معاملے ہمیشہ شرم کی وجہ سے کم رپورٹ ہوتے ہیں۔ متاثرہ خاندان آگے نہیں آتا کیونکہ معاشرے میں یہ عزت کا معاملہ ہے اور نظام زندہ بچ جانے والوں کی مدد نہیں کرتا اور نہ ہی انھیں ان جرائم کی اطلاع دینے کے بعد تحفظ فراہم کرتا ہے۔‘
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے ڈیٹا بیس میں، بے حرمتی کو ایک وسیع تفصیل کے تحت ریکارڈ کیا گیا ہے جسے (خاتون کی) عزت کو مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ‘ کہا جاتا ہے، جو اس جرم کو سڑکوں پر ہراساں کرنے، جنسی اشاروں، دیکھنے اور پیچھا کرنے کے واقعات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ گذشتہ سال اس طرح کے 83,344 کیس درج کیے گئے تھے جن میں مجموعی طور پر 85,300 متاثرہ خواتین شامل تھیں۔
اس طرح کے معاملات سے تعزیرات ہند کی دفعہ 354 کے تحت نمٹا جاتا ہے اور ان کی سزا صرف تین سے سات سال قید بنتی ہے جس کے بارے میں چوہان کہتی ہیں کہ یہ ’بالکل ناکافی‘ ہے۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ انصاف کا مذاق ہے۔ قانون صرف اس وقت کام کرتا ہے جب وہ مجرم کو جرم کا ارتکاب کرنے سے روکے۔ فی الوقت رائج قوانین اس ضمن میں کسی رکاوٹ کا کام نہیں کرتے بلکہ یہ متاثرہ خواتین کو مزید کمزور کرتے ہیں۔ ایسے جرائم میں سزا کو بڑھانے کے لیے قانون میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔‘
کرناٹک ہائی کورٹ میں ججوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کرناٹک کے گاؤں میں خاتون پر ہونے والے حملے کو ’50-60 دیہاتیوں کی بھیڑ‘ نے دیکھا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’صرف ایک شخص نے مداخلت کرنے کی کوشش کی اور اسے بھی ایسا کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘
اس طرح کے مظالم کو روکنے کے لیے ’اجتماعی ذمہ داری‘ کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے، ججوں نے 1830 کی دہائی کے ایک معاملے کا حوالہ دیا، جب انڈیا پر انگریزوں کی حکمرانی تھی، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ایک پورے گاؤں کو ایک جرم کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
جج صاحب نے کہا کہ ’گاؤں کے سبھی لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔۔۔ کوئی اسے روکنے کی کوشش کر سکتا تھا۔‘
چیف جسٹس ورلے نے مہا بھارت کی دروپدی کا بھی ذکر کیا، جسے ہندو دیوتا کرشنا نے اس وقت بچایا تھا جب اسے ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ انھوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ ’ہتھیار اٹھائیں کیونکہ کوئی بھگوان آپ کی حفاظت کے لیے نہیں آئے گا۔‘
تاہم چوہان کا ماننا ہے کہ یہ مشورہ عملی نہیں ہے۔
چوہان مزید کہتی ہیں کہ ’ہم دروپدی نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی ہتھیار اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ذمہ داری عورتوں پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ قانون کو ظالم سے بات کرنی پڑتی ہے، لیکن یہ اب بھی عورتوں کو بتا رہا ہے کہ انھیں محفوظ رہنے کا راستہ تلاش خود کرنا ہو گا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ اپنے جسموں پر اپنی نسل، ذات پات اور خاندانی لڑائیاں لڑنا بند کر دیں، یہ آپ کا میدان جنگ نہیں ہیں۔‘
صنفی مساوات پر نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والے تحقیقی تجزیہ کار مومل معراج کا کہنا ہے کہ ’ایک خاتون کے جسم کو میدان جنگ کے طور پر دیکھنے کی وجہ یہ ہے کہ عورت کو آج بھی خاندان، ذات اور برادری کی عزت سے جڑا ہوا ہے۔‘
چوہان کہتی ہیں کہ ’ہمیشہ یہی وجہ ہے کہ تنازعات کے دوران خواتین کو غیر متناسب طور پر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اس طرح کے واقعات میں دیکھنے کا عنصر بھی ہوتا ہے کیوںکہ انھیں دیکھا جاتا ہے، تصاویر بنائی جاتی ہیں اور انھیں ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’بیلگاوی میں گرفتار کیے گئے لوگوں میں سے ایک نابالغ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے جرائم کو اس حد تک معمول پر لایا گیا ہے کہ اگلی نسل بھی صنفی نظریات کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔‘
چوہان مزید کہتی ہیں کہ ’کیا اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک قانون کافی ہو گا؟ مجھے لگتا ہے کہ اس کا واحد حل اپنے بچوں خاص طور پر لڑکوں کی بہتر سے بہترین پرورش ہے۔ انھیں یہ سکھانا ضروری ہے کہ خاتون کے جسم کو اس کی عزت سے جوڑنا مشکل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن اسے جلدی شروع کرنا ہو گا، بصورتِ دیگر خواتین کے خلاف یہ وحشیانہ تشدد جاری رہے گا۔‘
بی بی سی اردو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے کشکول ایپ کے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں ⬇ کلک کریں

https://whatsapp.com/channel/0029Va4emE0B4hdX2T4KuS18