فلسطینیوں پر غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے حوالے سے بھارتی خاموشی کو فلسطینی شعراء کے کلام کے ترجمے نے توڑ دیا ہے۔ فلسطینی شعراء کا کلام ہندی زبان میں منتقل کیا گیا ہے۔ فلسطینی شعراء میں سے ایک کو اسی ماہ دسمبر کے شروع میں اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے شہید کر دیا تھا۔
ہندی ترجمے کی اس تازہ قلمی کاوش میں 32 فلسطینی شعراء کے کام کو ہندی میں سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہیں۔
ان میں ایک شاعر رفعت الیریر بھی ہیں۔ فلسطینی یونیورسٹی کے استاد اور دانشور رفعت الیریر ۔ جو 1979 میں اسی غزہ کے علاقے شجاعیہ میں پیدا ہوئے تھے، رواں ماہ دسمبر میں غزہ میں ہی بمباری کے دوران شہید ہو گئے۔
ایک اور نمایاں فلسطینی شاعر محمد درویش کا کلام بھی اسرائیلی جنگ کے دنوں میں بھارتی خاموشی کے دوران ہندی ترجمے کا موضوع بن کر خاموشی کے توڑنے کا باعث بنا ہے۔
فلسطین کی آزادی کی حمایت ماضی میں بھارت کی خارجہ پالیسی کا اٹوٹ انگ تھا مگر اب یہ اٹوٹ انگ نئی اس سرکاری کی وجہ سے بھارتی خارجہ پالسی سے ٹوٹ گرا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 21 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے مگر بھارت خاموش ہے۔
اس ماحول میں جو تازہ پبلیکیشن سامنے آئی ہے وہ کویتا کا کام آنسو پونچھنا نہیں 84 نظموں کے ترجمے پر مشتمل ہے۔ مقصد فلسطین کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے اور فلسطینیوں پر جاری مظالم کا سامنے لانا ہے۔ یہ مطالم صرف ماضی میں نہیں کیے جاتے رہے بلکہ اسرائیلی قبضے کے 75 برسوں سے جاری ہیں اور آج بھی جنگ کی صورت نظر آرہے ہیں۔
ان میں محمود درویش ایک بزرگ شاعر تھے ، جنہوں نے 2008 اپنی موت تک اپنی شاعری سے فلسطینی جدوجہد کو آواز دیے رکھی۔ وہ 1941 میں فلسطین میں اس وقت پیدا ہوئے تھے جب ابھی اسرائیلی قبضہ نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے مئی 1948 کا نکبہ دیکھا تھا۔ جبکہ رفعت الیریر نے 2023 کا نکہ دیکھا اور بھگتا۔
رفعت الیریر غزہ کی اسی مٹی میں پیدا ہوئے اور اسی میں آخری نیند سو گئے۔ واضح رہے رفعت الیریر کو اسرائیلی بمبار طیاروں نے 6 دسمبر کو شہید کر دیا تھا۔ وہ آخری دنوں تک فلسطین کے کرب کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے رہے، ان کی آخری ویڈیو اسرائیلی بمباری کے دوران ریکارڈ ہو کر سامنے آئی ، اس میں بھی وہ فلسطینیوں کی آواز تھے اب ان کی شاعری یہی کام کرتی رہے گی۔
رفعت الیریر کی آواز ہندی ترجمے کی بدولت بھارت میں بھی سنی جائے گی اور خاموشی کو توڑتی رہے گی۔ ہندی کے قالب میں جن دیگر فلسطینی شاعروں کی تخلیقات کو ڈھالا گیا ہے، ان میں طہ محمد علی، کمال ناصر، فدوا توقان، اہلام بشارت، درین تاتور ۔ ذکریا محمد، اور حسام معروف شامل ہیں۔
پروفیسر اپپوروانند جیہا بھارت کی دہلی یونیورسٹی میں ہندی ادب کے استاد ہیں۔ وہ ان پانچ مترجم حضرات میں سے ایک ہیں جنہوں نے فلسطینی شعراء کے اس کام کو ہندی کا لبادہ دیا ہے۔
انہوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا اسرائیلی جنگی بمباری اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے باوجود بھارت میں مکمل سناٹا ہے اس لیے ضرورت تھی کہ یہ کام کیا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا جب وہ اور ان کے ساتھی یہ ترجمہ کر رہے تھے تو ہمارے سامنے بھارت کی وہ روایت سامنے تی جس میں بھارت اور بھارت کے لوگ مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ ہم میں سے بہت سوں نے فلسطینی شاعر محمود درویش کے ساتھ اسی دور میں آنکھ کھولی جب وہ شاعری کر رہے تھے۔ ہم ان کی شاعری اور کلام کے ساتھ پروان چڑھے ہیں۔
پروفیسر محمود درویش نے ہمیں حساسیت اور شعور دیا۔ وہ ایک بڑے شاعر تھے۔ اس لیے ہم نے فلسطینی شاعری کو ہندی بولنے والوں کے قریب لانے کی کوشش کی ہے۔
پروفیسر جیہا نے یورپ ، امریکہ اور دوسری جگہوں پر دھمکیوں کے باوجود ہر روز لوگ سڑکوں پر نکل کر فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے بھارت میں ہم نے اس قسم کا احتجاج نہیں دیکھا ، ہمارے کیمپس بھی خاموش ہیں، اس پر ہمیں دکھ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے کشکول ایپ کے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں ⬇ کلک کریں

https://whatsapp.com/channel/0029Va4emE0B4hdX2T4KuS18