دہلی وقف بورڈ کے دفتر میں ای ڈی نے چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چھاپے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً چار سے پانچ جگہوں پر ای ڈی کے افسران کے ذریعے چھاپہ مارا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایجنسی نے اکتوبر میں دہلی اسمبلی میں اوکھلا حلقے کی نمائندگی کرنے والے 49 سالہ قانون ساز امانت اللہ خان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ اس نے نومبر میں اس معاملے میں اس کے تین مبینہ ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔ ای ڈی نے الزام لگایا تھا کہ خان نے دہلی وقف بورڈ میں عملے کی غیر قانونی بھرتی کے لیے نقد رقم وصول کی اور اپنے ساتھیوں کے نام پر غیر منقولہ اثاثوں کی خریداری کے لیے ان کی سرمایہ کاری کی۔
ای ڈی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہلی وقف بورڈ میں عملے کی غیر قانونی بھرتی اور 2018-2022 کے دوران امانت اللہ خان کے ذریعہ بورڈ کی صدارت کے دوران وقف بورڈ کی جائیدادوں کو غیر منصفانہ طور پر لیز پر دینے کے ذریعہ غیر قانونی طور پر ذاتی فوائد حاصل کرنے کے معاملے میں تلاشیاں (اکتوبر میں) کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی، ایف آئی آر اور دہلی پولیس کی تین شکایات نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے کے خلاف ای ڈی کی کارروائی کو بنیاد بنایا ہے۔
ای ڈی کے مطابق امانت اللہ خان مذکورہ مجرمانہ سرگرمیوں سے ایک بڑی رقم نقدی میں حاصل کی اور اس نقد رقم کو دہلی میں اپنے ساتھیوں کے نام پر مختلف غیر منقولہ جائیدادوں کی خریداری میں لگایا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ چھاپوں کے دوران جسمانی اور ڈیجیٹل شواہد کی شکل میں متعدد مواد قبضے میں لیا گیا جو منی لانڈرنگ کے جرم میں خان کے کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے الزام لگایا تھا کہ عآپ کو ختم کرنے کی مہم چل رہی ہے اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارٹی رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے کشکول ایپ کے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں ⬇ کلک کریں

https://whatsapp.com/channel/0029Va4emE0B4hdX2T4KuS18