حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ جن شیرخوار بچوں کے دماغ میں وسیع خلا ہوتے ہیں ، ان میں نیند کے مسائل اور آٹزم کا خطرہ دوچند ہوجاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلی محققین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا کہ جن شیر خوار بچوں کے دماغ میں غیر معمولی طور پر زیادہ وسیع پیمانے پر خالی جگہیں ہوتی ہیں ان میں دیگر بچوں کی نسبت آٹزم کا خطرہ 2.2 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
یو این سی اسکول آف میڈیسن کے شعبہ نفسیات کے محقق ڈیا گارک( پی ایچ ڈی) اور ڈاکٹر مارک شین نے اپنی تحقیق میں اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ دماغ میں یہ خُلا 7 سے 10 سال بعد نیند کے مسائل سے بھی منسلک ہے۔
محققین نے6 سے 24 ماہ کے شیرخوار بچوں کی ان میں آٹزم کی تشخیص کی عمر سے پہلے تک پیروی کی۔ تحقیق میں پتہ چلا کہ 30 فیصد جن بچوں کو بعد میں آٹزم ہوا ان میں 12 مہینوں تک دماغ میں پریواسکولر خالی جگہیں بڑھ گئی تھیں جبکہ 24 ماہ کی عمر بچوں کی یہ تعداد نصف تک پہنچ گئی تھی۔
مذکورہ بالا تحقیق JAMA Network Open میں شائع ہوئی ہے ۔۔
۔
۔