بی بی سی اردو
اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ میں مستقبل کی حکمرانی سے متعلق کُچھ تجاویز کے ساتھ ایک خاکہ پیش کیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع کی جانب سے پیش کیا جانے والے خاکے کے مطابق اس علاقے میں فلسطینیوں کی حکمرانی محدود کر دی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ غزہ کا نظم و نسق اس جنگ کے بعد حماس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس علاقے سے متعلق تمام تر معاملات کی نگرانی اسرائیلی انتظامیہ خود کرے گی۔
ایک جانب اسرائیل کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ خاکہ ہے تو دوسری جانب حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن رواں ہفتے خطے کا دورہ کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی حکام اور اسرائیلی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں اور بات چیت بھی کریں گے۔
ان کا یہ دورہ ایک ایسے اہم وقت میں ہو رہا ہے کہ جب منگل کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حماس کے سرکردہ رہنما صالح العروری کے قتل کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ صالح کے قتل کا الزام اسرائیل پر ہی عائد کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایسا اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ اب تک صالح کے بیروت میں قتل کے بعد سے اسرائیل نے نہ تو اس واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید۔
اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے ’فور کارنر‘ منصوبے کے تحت اسرائیل غزہ کا مجموعی سکیورٹی کنٹرول اپنے پاس رکھے گا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد ایک اسرائیلی انتظامیہ علاقے میں بحالی اور تعمیرِ نو کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
اس منصوبے کے تحت ہمسایہ ملک مصر کو بھی ایک غیر واضح کردار ادا کرنا ہوگا۔
لیکن دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی اس علاقے کو چلانے کے ذمہ دار ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ غزہ کے باشندے فلسطینی ہیں اس لیے وہ ہی فلسطینی اداروں کے چلانے کے ذمہ دار ہوں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب سے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ یہ سب اُس صورت میں مُمکن ہو سکے گا کہ اس علاقے سے دوبارہ اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی یا دھمکیاں سامنے نہیں آئیں گے۔
کابینہ کے اجلاس میں اس منصوبے پر تفصیل سے بات نہیں کی گئی اور اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نتن یاہو نے عوامی طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اجلاس تلخی کی وجہ سے قبل از وقت ختم ہو گیا اور کچھ وزراء نے حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے سے متعلق واقعات کی تحقیقات کے لیے پیش کیے جانے والے ناموں پر برہمی کا اظہار کیا۔
غزہ میں ’مستقبل‘ کے بارے میں بات کرنے سے اسرائیل میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
نتن یاہو کی حکومت کے کچھ انتہائی دائیں بازو کے ارکان نے کہا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو جلاوطنی کے لیے غزہ چھوڑنے کی ترغیب دی جانی چاہیے اور علاقے میں یہودی بستیوں کے دوبارہ قیام کے ساتھ متنازع تجاویز کو خطے کے دیگر ممالک اور اسرائیل کے بعض اتحادیوں نے ’انتہا پسند‘ اور ’ناقابل عمل‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
اگرچہ اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کی تجاویز کو ان کی کابینہ کے کچھ ساتھیوں کی تجویز سے زیادہ عملی سمجھا جاسکتا ہے ، لیکن امکان ہے کہ فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے انھیں مسترد کردیا جائے گا جو کہتے ہیں کہ اس تباہ کن جنگ کے ختم ہونے کے بعد غزہ کے باشندوں کو خود علاقے کو چلانے کی مکمل اجازت دی جانی چاہیے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے عوامی سطح پر اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ اسرائیل کیسے غزہ پر حکمرانی کرے گا اور اس کا طریقے کار کیا ہوگا۔
تاہم اس کے برعکس اسرائیلی وزیر اعطم کی جانب سے یہ بیان ضرور سامنے آیا ہے کہ غزہ میں جنگ ابھی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، جس کا مقصد حماس کو مکمل طور پر غزہ سے کچلنا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے منصوبے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں جنگ کے اگلے مرحلے میں کس طرح آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) غزہ کی پٹی کے شمال میں زیادہ اہداف کو نشانہ بنائے گی، جہاں کی جانے والی کارروائیوں میں چھاپے، سرنگوں کو مسمار کرنا اور فضائی اور زمینی حملے شامل ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ جنوب میں اسرائیلی فوج حماس کے رہنماؤں کا سراغ لگانے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی کوشش جاری رکھے گی۔
جمعرات کے روز آئی ڈی ایف نے کہا تھا کہ انھوں نے غزہ شہر اور خان یونس سمیت غزہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ آئی ڈی ایف کی جانب سے ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر حملے کیے اور ان لوگوں کو ہلاک کیا تھا جنھیں ان کی جانب سے عسکریت پسند قرار دیا گیا تھا، آئی ڈی ایف کے مطابق یہ وہی ہیں جنھوں نے اُن کے فوجیوں پر دھماکہ خیز مواد سے خطرناک حملہ کیا تھا۔
آئی ڈی ایف نے یہ بھی اعلان کیا کہ اُن کی جانب سے کیے جانے والے ایک فضائی حملے میں اسلامی جہاد کے ایک سینیئر فلسطینی کارکن ممدوح لولو کو ہلاک کر دیا ہے۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں 125 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ خان یونس کے مغرب میں المواسی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں نو بچوں سمیت 14 افراد ہلاک ہوئے۔
اس چھوٹے سے قصبے کو اسرائیلی افواج نے بے گھر فلسطینیوں کے لیے ’محفوظ مقام‘ قرار دیا ہوا ہے۔ آئی ڈی ایف نے حماس کے دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
عینی شاہد جمال حماد صلاح نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’آدھی رات کا وقت تھا ہم سوئے ہوئے تھے کہ جب خیموں پر حملہ ہوا، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد سو رہے تھے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں خیموں سے قریب 40 میٹر دور ایک لاش ملی جو فضائی حملے کے نتیجے میں دور جا گری تھی۔‘
امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے کنٹری ڈائریکٹر جیسن لی کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ کیمپ، پناہ گاہیں، سکول، ہسپتال، گھر اور نام نہاد ’محفوظ علاقے‘ میدان جنگ کا حصہ نہیں ہونے چاہیں۔‘
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جوابی مہم کے آغاز کے بعد سے غزہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد جمعرات تک 22 ہزار 400 سے تجاوز کر چُکی ہے جو اس علاقے کی 23 لاکھ آبادی کا تقریباً ایک فیصد ہے۔
اسرائیل کی یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر اچانک حملہ کیا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور تقریبا 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے کشکول ایپ کے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں ⬇ کلک کریں

https://whatsapp.com/channel/0029Va4emE0B4hdX2T4KuS18