اسلام کے نام پر بنے ملک پاکستان کی انسانی حقوق کی وزارت نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو کہا ہے کہ اس وقت سزائے موت پر عملدرآمد غیررسمی طور پر معطل ہے۔
جمعے کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں سرعام پھانسی دینے کے معاملے پر بحث ہوئی۔
اجلاس میں سینیٹر وقار مہدی، سینٹر مشاہد حسین سید اور سینیٹر کامران مائیکل نے سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی قرارداد سینیٹر ولید اقبال نے پڑھتے ہوئے کہا کہ کمیٹی سرعام پھانسی کی مخالفت کرتی ہے۔
قرار داد میں کہا گیا کہ ’کمیٹی سینیٹ سے درخواست کرتی ہے کہ وہ ایسا کوئی قانون منظور نہ کرے جس میں سر عام پھانسی ہو۔‘
دوسری جانب کمیٹی کے دو ارکان نے رائے دی کہ اس معاملے پر پہلے تحقیق کی جائے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ لوگوں کو سرعام پھانسی دینے کے معاملے پر داخلہ کمیٹی نے ایک بِل منظور کیا تھا جس کے خلاف ان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ داخلہ کمیٹی نے اس بل کو انسانی حقوق کے تناظر میں نہیں دیکھا تھا۔
سیکریٹری انسانی حقوق اللہ ڈینو خواجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سرعام پھانسی کے قومی اور بین الاقوامی اثرات ہیں۔ ’یہ حساس معاملہ ہے۔ بین الاقوامی ڈونرز کا سزائے موت اور سرعام پھانسی کے حوالے سے سخت موقف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے قانون میں سرعام پھانسی کی اجازت ہے تاہم دنیا یہ چاہتی ہے کہ ہم سزائے موت ختم کریں۔ ’33 ایسی جگہیں ہیں جہاں ہمارے قوانین میں سزائے موت ہے۔ ان قوانین میں دہشت گردی، ریپ، ہائی جیکنگ، آرمی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور توہین رسالت شامل ہے۔‘
انہوں نے کہا امریکہ کی ریاستوں میں سزائے موت ہے لیکن یورپ کے اکثر ممالک میں نہیں۔ ’اقوام متحدہ اور یورپی یونین کہتی ہے کہ سزائے موت کو کم کیا جائے۔‘
سیکشن 22 انسداد دہشت گردی کے مطابق ’حکومت، سزائے موت کے طریقہ کار اور جگہ کا تعین کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہیں بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ یعنی سرعام پھانسی انسداد دہشت گردی میں موجود ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے سرعام پھانسی سے متعلق زینب ریپ کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ جابرانہ جرم کی سرعام پھانسی کی طرح کی جابرانہ سزا نہیں دی جا سکتی۔‘
ان کے مطابق ’پاکستان نے انسانی حقوق کے سات بین الاقوامی کنونشنز پر دستخط کیے ہیں۔ یورپی یونین نے جی ایس پی سٹیٹس نظر ثانی پر سزائے موت معطل کرنے کا کہا۔‘
وزارت انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ سرعام پھانسی پاکستان کے بین الاقوامی مفاد میں نہیں۔ اس سے پاکستان کا دنیا میں تشخص خراب ہو گا۔ ہمیں سر عام پھانسی نہیں دینی چاہیے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سیکریٹری کامران اعظم خان نے کہا کہ ’جیل رولز بھی سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے وہ کہتے ہیں کہ 10، 11 لوگ دیکھیں۔‘
سینیٹر مہر تاج روغانی نے کہا کہ ’ہمیں تو یورپی یونین کو آمادہ کرنا چاہیے بجائے اس کے وہ ہمیں کرے۔‘
سینیٹر ہمایوں مہمند نے سوال کیا کہ ’جس کی زندگی لے لی گئی اس کے حقوق کہاں گئے؟‘
سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ سرعام پھانسی کے خلاف زیادہ ووٹ آئے ہیں۔
سینیٹر مہر تاج روغانی کا کہنا تھا کہ وہ اتنی جلدی ووٹنگ کرانے کے خلاف واک آؤٹ کرتی ہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ’یاد رکھیں آخر میں سیاستدانوں کو سرعام پھانسی ہو جائے گی۔‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے کشکول ایپ کے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں ⬇ کلک کریں

https://whatsapp.com/channel/0029Va4emE0B4hdX2T4KuS18