پاکستانی ہندو کونسل (پی ایچ سی) کے زیرِ اہتمام کراچی میں ایک تقریب کے دوران 120 سے زائد ہندو جوڑے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔
پاکستان ہندو کونسل گزشتہ 16 سال سے سالانہ اجتماعی شادیوں کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں اور آمدنی اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر سب سے زیادہ مستحق امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں تقریباً 40 لاکھ ہندو آباد ہیں جو ملکی آبادی کا تقریباً 1.9 فیصد ہیں اور ان میں سے 1.4 ملین سندھ میں ہیں۔
مشترکہ شادی پروگرام کہلانے والی یہ 17ویں تقریب کراچی کے مصروف آئی آئی چندریگر روڈ کے ریلوے گراؤنڈ میں منعقد ہوئی جہاں 120 سے زیادہ ہندو جوڑوں کے رشتہ داروں نے اس خوشی کے موقع پر رقص کیا اور گانا گایا۔
122 دلہنوں میں سے ایک کلپنا دیوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ میں یہاں اس لیے شادی کر رہی ہوں کیونکہ میرے والدین غریب ہیں۔ وہ شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
بہترین شادی گھر میں ہوتی ہے لیکن جب کوئی خاندان یہاں (اجتماعی پروگرام میں) شادی کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ اپنی بیٹی کو شادی کے تحفے کے طور پر کچھ بہتر دے سکتے ہیں۔
پی ایچ سی کے سربراہ رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ کونسل نے اس سال 200 جوڑوں کا انتخاب کیا جن میں سے 122 جوڑوں کو “شادی کے دن” کے لیے مالی مدد فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایچ سی کو ملک بھر سے درخواستیں موصول ہوئیں۔
وانکوانی نے بتایا کہ ہم (انتخاب میں) بغیر باپ کے جوڑوں یا ان لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں جن کے والد جسمانی طور پر معذور ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے کشکول ایپ کے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں ⬇ کلک کریں

https://whatsapp.com/channel/0029Va4emE0B4hdX2T4KuS18